حدیث نمبر: 37822
٣٧٨٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن] (١) عبد الملك قال: أخبرني من رأى عمر بن عبد العزيز واقفا بعرفة وهو يدعو وهو يقول بأصبعه هكذا -يعني يشير بها: اللهم زد محسن أمة محمد (٢) إحسانا، و (راجع) (٣) (بمسيئهم) (٤) إلى التوبة، ثم يقول -هكذا، ثم يدير (بإصبعه) (٥) -: اللهم وحط من وراءهم برحمتك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں وقوف کرتے دیکھا تھا اور آپ رحمہ اللہ دعا کر رہے تھے۔ اور آپ اپنی انگلی سے یوں اشارہ کررہے تھے۔ اے اللہ ! اُمت محمد ﷺ! کے ساتھ اچھائی کرنے والے کی اچھائی کو اور زیادہ کر اور امت محمد ﷺ کے ساتھ برائی کرنے والے کو توبہ کی طرف پھیر دے پھر آپ رحمہ اللہ نے اپنی انگلی کو پھیرا۔ اے اللہ ! اور تو ان کے پیچھے سے اپنی رحمت کا احاطہ فرما لے۔

حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٢) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٣) في [جـ]: (ورجع).
(٤) في [جـ، ع]: (نيسيهم).
(٥) في [ط، هـ]: (إصبعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37822، ترقيم محمد عوامة 36238)