حدیث نمبر: 37820
٣٧٨٢٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن المهلب بن عقبة قال: كان عمر بن عبد العزيز يخطب يقول: إن من أحب (الأمور) (٢) إلى اللَّه القصد في الجدة، والعفو في المقدرة، والرفق في الولاية، وما رفق عبد (بعبد) (٣) في (الدنيا) (٤) إلا رفق اللَّه به يوم (القيامة) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہلب بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خطبہ دیتے تو فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین کاموں میں تونگری کی حالت میں میانہ روی اور قدرت کے وقت معافی اور اختیار کے وقت نرمی ہے۔ جو بندہ بھی کسی بندہ کے ساتھ دنیا میں نرمی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے ساتھ نرمی کریں گے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عيسى).
(٢) في [أ، ب]: (الأموال).
(٣) في [ب]: (بعبيد).
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) في [هـ]: (للقيامة).