حدیث نمبر: 37817
٣٧٨١٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني أن عمر بن عبد العزيز خطب الناس (بعرفة) (١) فقال: (يا) (٢) أيها الناس إنكم (جئتم) (٣) من القريب والبعيد، (فأنضيتم) (٤) (الظهر) (٥) و (أخلقتم الثياب) (٦)، وليس السعيد ⦗٥٠٥⦘ من سبقت دابته (أو) (٧) راحلته، ولكن السعيد من تقبل منه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مقام عرفہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ کہا : اے لوگو ! تم دور اور قریب سے آئے ہو، چناچہ تم نے جانور بھی لاغر کردیے ہیں اور کپڑے بھی پرانے کرلیے ہیں لیکن خوش بخت وہ آدمی نہیں ہے جس کی سواری آگے نکل گئی بلکہ خوش بخت وہ ہے جس کی قبولیت ہوگئی۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) في [أ، ب، ع]: (جيتم).
(٤) في [س، غ]: (فأنصيتم)، وفي [جـ]: (أنطيتم).
(٥) في [ب]: (العمر)، وفي [جـ، ع]: (الطهر).
(٦) في [جـ]: (وأحلفتم لثياب).
(٧) في [أ، ب]: (و).