حدیث نمبر: 37815
٣٧٨١٥ - حدثنا أبو معاوية عن (معرف) (١) قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يخطب الناس (بعرفة) (٢) وعليه ثوبان أخضران، وذكر الموت فقال: (غنظ) (٣) ليس كالغنظ (وكظ ليس كالكظ) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں دیکھا وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور ان پر دو سبز کپڑے تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے موت کا ذکر کیا تو فرمایا : وہ سخت تکلیف ہے لیکن عام سخت تکالیف کی طرح نہیں ہے۔ وہ سخت غم ہے لیکن عام سخت غموں کی طرح نہیں ہے۔

حواشی
(١) هو ابن واصل كما في غريب الحديث للخطابي ٣/ ١٢٠٩، وفي [أ، ب]: (مقرن)، وفي [جـ]: (معرب)، وفي [ط، هـ]: (مطرف).
(٢) في [ب]: (يعرفه).
(٣) الغنظ: أعظم الكرب، وفي [أ، ب، جـ]: (عنظ)، وفي [ع]: (عنظٌ).
(٤) أي: اهتم، وفي [جـ]: (ولض ليس كاللض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37815
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37815، ترقيم محمد عوامة 36231)