حدیث نمبر: 37814
٣٧٨١٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن أبي (مخزوم) (١) قال: حدثني عمر بن أبي الوليد قال: خرج عمر بن عبد العزيز يوم (جمعة) (٢) وهو ناحل الجسم ⦗٥٠٤⦘ (يخطب) (٣)، كما كان يخطب ثم قال: (٤) أيها الناس من أحسن منكم فليحمد اللَّه، ومن (أساء) (٥) فليستغفر اللَّه، فإنه لا بد لأقوام أن يعملوا أعمالا وضعها اللَّه في رقابهم وكتبها عليهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن الولید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جمعہ کو باہر تشریف لائے … آپ کا جسم بہت کمزور تھا … آپ نے خطبہ دیا جس طرح آپ خطبہ دیتے تھے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے جو اچھا کام کرے تو اس کو اللہ کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور تم میں سے جو برا کام کرے تو اس کو اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ وہ اعمال کریں اور اللہ ان اعمال کو ان کی گردنوں پر رکھ دے اور ان اعمال کو ان لوگوں پر لکھ دے۔
حواشی
(١) في [ع]: (مجدوم).
(٢) في [ط، هـ]: (الجمعة).
(٣) في [هـ]: (فخطب).
(٤) في [هـ]: زيادة (يا).
(٥) في [أ، ب]: (أسئ).