٣٧٧٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع سمعه من أبي عمر (الصيني) (١) عن أبي الدرداء قال: قلت: يا رسول اللَّه ذهب (الأغنياء) (٢) بالأجر، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج، ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق (٣)، قال: فقال: "ألا أدلكم على شيء إذا فعلتموه أدركتم من سبقكم ولا يدرككم من بعدكم إلا من عمل بالذي تعملون به: تسبحون اللَّه ثلاثًا وثلاثين وتحمدونه ثلاثًا وثلاثين، و (تكبرونه) (٤) أربعا وثلاثين دبر كل صلاة" (٥).حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! غنی لوگ تو اجر لے گئے۔ جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور جس طرح ہم حج کرتے ہیں وہ بھی یوں ہی حج کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں جبکہ ہمیں صدقہ کرنے کو کچھ نہیں ملتا۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ بتادوں کہ جب تم اس کو کرو تو تم خود پر سبقت کرنے والے کو پالو اور تمہارے بعد والے تمہیں نہ پاسکیں گے مگر اسی عمل کے ذریعہ جو تم نے کیا ہوگا ؟ تم لوگ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔