حدیث نمبر: 37769
٣٧٧٦٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى بن (مسلم) (١) عن عون بن عبد اللَّه عن أبيه أو عن أخيه عن النعمان بن بشير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الذين يذكرون (من جلال) (٢) اللَّه من تسبيحه وتحميده (٣) وتهليله يتعاطفن حول العرش، (لهن) (٤) دوي كدوي النحل، يُذكرن بصاحبهن، أولا يحب أحدكم أن لا يزال عند الرحمن شيء يذكر به" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ ہیبت خداوندی کی وجہ سے خدا کی تسبیح، تحمید اور تہلیل پڑھتے ہیں تو ان کی یہ تسبیحات عرش کے گرد منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان تسبیحات کی شہد کی مکھیوں کی طرح کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو یاد کرتی ہیں کیا تم میں سے کوئی ایک یہ بات پسند نہیں کرتا کہ رحمن کے پاس کوئی چیز ہو جو اس کو مسلسل یاد کرتی رہے ؟ “

حواشی
(١) في [هـ]: (سالم) نقلًا من المستدرك، وهو وهم.
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: زيادة (وتكبيره).
(٤) في [أ، ب]: (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37769
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٣٦٢)، وابن ماجه (٣٨٠٩)، والحاكم ١/ ٥٠٠، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٦٩، والطبراني في الدعاء (١٦٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37769، ترقيم محمد عوامة 36185)