حدیث نمبر: 37766
٣٧٧٦٦ - حدثنا يعلى بن عبيد عن مسعر عن عطية عن أبي سعيد قال: إذا قال: العبد] (١): الحمد للَّه كثيرا، قال الملك: كيف أكتب (٢)؟ فيقول: اكتب له رحمتي كثيرا، (وإذا قال: سبحان اللَّه كثيرًا، قال الملك كيف أكتب؟ فيقول: اكتب له رحمتي كثيرًا) (٣)، وإذا قال: اللَّه أكبر كبيرا، قال الملك: كيف أكتب؟ فيقول: اكتب (له) (٤) رحمتي كثيرا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا کہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے۔ میں (اس کو) کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کو میری کثیر رحمت لکھو اور جب بندہ کہتا ہے سُبْحَانَ اللہِ کَثِیرًا۔ تو فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری کثیر رحمت لکھو۔ اور جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا۔ فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری بڑی رحمت لکھو۔
حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (له).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].