٣٧٧٤٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن خيثمة قال: دعاني (١) فلما جئت إذا أصحاب العمائم والمطارف على الخيل، فحقرت نفسي فرجعت، قال: فلقيني بعد ذلك فقال: ما لك لم تجئ؟ قال: قلت: قد جئت ولكن (قد) (٢) رأيت أصحاب العمائم والمطارف على الخيل فحقرت نفسي، قال: فأنت واللَّه أحب إلى منهم، قال: وكانا إذا دخلنا عليه (قال) (٣) بالسلة (من) (٤) تحت السرير وقال: كلوا، واللَّه ما أشتهيه، ولا (أصنعه) (٥) إلا لكم.حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خیثمہ نے بلایا۔ جب میں آیا تو کچھ دستار اور شال والے لوگ گھوڑوں پر آئے۔ میں نے اپنے کو حقیر سمجھا اور واپس ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد آپ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : میں تو آیا تھا لیکن میں نے دستار اور شال والے لوگ دیکھے جو گھوڑوں پر سوار تھے تو میں نے اپنے آپ کو حقیر جانا۔ اس پر حضرت خیثمہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تم مجھے ان سے زیادہ محبوب ہو۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم لوگ حضرت خیثمہ کے پاس جاتے تھے تو وہ اپنے تخت کے نیچے سے ایک ٹوکری نکالتے اور فرماتے : کھاؤ، خدا کی قسم ! مجھے اس کی خواہش نہیں ہوتی لیکن میں یہ تمہارے لیے تیار کرتا ہوں۔