حدیث نمبر: 37745
٣٧٧٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما أراد اللَّه أن يهلك أصحاب الفيل بعث عليهم طيرا (أنشئت) (١) من البحر أمثال الخطاطيف كل طير منها يحمل ثلاثة أحجار مجزعة (٢): حجرين في رجليه و (حجرا) (٣) في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم، ثم صاحت وألقت ما في أرجلها ومناقيرها، فما يقع (حجر) (٤) على رأس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج من الجانب الآخر، قال: وبعث اللَّه ريحًا شديدة فضربت الحجارة فزادتها شدة فأهلكوا جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر سمندر سے پیدا کردہ ابابیلوں کے مثل پرندے بھیجے۔ ان میں سے ہر ایک پرندے نے تین سفید و سیاہ پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ دو پتھر اس کے پنجوں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : پس یہ پرندے آئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان اصحاب الفیل کے سروں پر صف بنا لی پھر چیخ ماری اور اپنی چونچوں اور پنجوں میں موجود پتھروں کو گرا دیا۔ جو پتھر بھی کسی آدمی کے سر پر لگتا وہ اس کی دبر سے باہر نکل آتا اور جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا دوسرے حصہ سے باہر آجاتا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شدید ہوا بھیجی جو پتھروں پر لگی تو اس نے (ان کی) شدت کو اور زیادہ کردیا پس وہ سارے لوگ ہلاک ہوگئے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (نشبت).
(٢) أي: حادة.
(٣) في [جـ، س]: (حجر).
(٤) في [ع]: (حجزًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37745، ترقيم محمد عوامة 36161)