حدیث نمبر: 37737
٣٧٧٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن قيس بن سعد عن عبيد بن عمير قال: إن أهل القبور (ليتوكفون) (١) (للميت) (٢) كما يتلقى الراكب (يسألونه) (٣)، فإذا سألوه ما فعل فلان؟ ممن قد مات، فيقول: ألم يأتكم؟ فيقولون: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [البقرة: ١٥٦] ذهب به إلى أمه الهاوية.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قبروں والے بھی میت کا اس طرح استقبال کرتے ہیں جس طرح کسی سوار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے سوال کرتے ہیں۔ پس جب وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا ؟ جو لوگ مرگئے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو یہ میت کہتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اس پر وہ کہتے ہیں : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ اس کو اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا۔
حواشی
(١) أي: يتوقعون، وفي [هـ]: (ليتلقون).
(٢) في [هـ]: (الميت).
(٣) في [جـ، ع]: (يسأيلونه).