٣٧٧٣٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن رجل عن عبيد بن عمير قال: كان لرجل ثلاثة أخلاء بعضهم أخص به من بعض، قال: فنزلت به نازلة فلقي أخص الثلاثة به فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا، وإني أحب أن تعينني، قال: ما أنا بالذي أفعل، فانطلق إلى الذي يليه في الخاصة، فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا (فأنا) (١) أحب أن تعينني، فقال: أنطلق معك حتى تبلغ المكان الذي تريد، فإذا بلغتَ رجعتُ وتركتك، فانطلق إلى (أخس) (٢) الثلاثة فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا فأنا أحب أن تعينني، قال: أنا أذهب معك حيثما ذهبت، وأدخل (٣) حيثما دخلت، قال: فأما الأول فماله خلّفه في أهله، فلم يتبعه منه (شيء) (٤)، والثاني أهله (وعشيرته) (٥) ذهبوا به إلى قبره، ثم رجعوا وتركوه، والثالث عمله هو (معه) (٦) حيثما ذهب ويدخل معه حيث ما دخل.حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں : پس اس آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چناچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں : پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔