٣٧٧٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن طعمة عن عبد اللَّه بن عيسى قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عبد اللَّه أربعين سنة في البر، ثم قال: يا رب قد اشتقت أن أعبدك في البحر، فأتى قوم فاستحملهم فحملوه، وجرت بهم سفينتهم ما شاء اللَّه أن تجري، ثم قامت فإذا شجرة في ناحية الماء، قال: فقال: ضعوني على هذه الشجرة، قال: فقالوا: ما يُعيّشك على هذه؟ قال: إنما استحملتكم فضعوني حيث أريد، فوضعوه وجرت بهم سفينتهم، فأراد ملك أن يعرج إلى السماء فتكلم بكلامه الذي كان يعرج به فلم يقدر على ذلك، فعلم أن ذلك لخطيئة كانت منه، فأتى صاحب الشجرة فسأله أن يشفع له إلى ربه، قال: فصلى ودعا للملك، قال: وطلب إلى ربه أن يكون هو يقبض نفسه (ليكون) (١) أهون عليه من ملك الموت، فأتاه حين حضر أجله فقال: إني طلبت إلى ربي أن يشفعني فيك كما شفعك في، وأن أكون أنا أقبض نفسك، فمن حيث شئت قبضتها قال: فسجد سجدة فخرجت (دمعة) (٢) من عينه فمات.حضرت عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے چالیس سال تک خشکی میں اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے دعا کی۔ اے پروردگار ! میں سمندر میں آپ کی عبادت کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ چناچہ کچھ لوگ آئے اور اس نے ان سے سوار کرنے کو کہا : انہوں نے اس کو (کشتی میں) سوار کرلیا۔ پھر جب تک خدا کی مشیت تھی کشتی انہیں لے کر چلتی رہی۔ پھر کشتی ٹھہر گئی۔ وہاں پانی کے کنارے میں ایک درخت تھا۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی نے (کشی والوں سے) کہا : مجھے اس درخت کے پاس اتار دو ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اس جگہ کیسے زندہ رہو گے ؟ اس نے کہا : میں نے تمہیں اجرت پر اٹھانے کو کہا تھا پس جہاں میرا دل چاہے تم مجھے وہیں اتارو۔ چناچہ ان لوگوں نے اس کو وہاں اتار دیا اور کشتی بقایا لوگوں کو لے کر پھر چل پڑی۔ پھر ایک فرشتے نے آسمان پر چڑھنا چاہا اور اس نے وہ کلمات پڑھے جن کے ذریعہ وہ آسمان پر چڑھتا تھا لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کی کسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ چناچہ وہ درخت والے کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے پروردگار کے پاس اس کی سفارش کرے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس آدمی نے نماز پڑھی اور فرشتے کے لیے دعا کی۔ راوی کہتے ہیں : اس عابد نے خدا سے یہ دعا بھی کی کہ اس کی روح یہ فرشتہ قبض کرے تاکہ ملک الموت سے ہلکی تکلیف ہو۔ چناچہ جب اس آدمی کی موت آئی تو یہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ تیرے بارے میں میری بھی شفاعت قبول کریں جس طرح انہوں نے میرے بارے میں تیری شفاعت قبول کی تھی اور یہ کہ میں ہی تمہاری روح قبض کروں۔ پس جیسے تم چاہو گے میں تمہاری روح قبض کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس عابد نے سجدہ کیا اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلا اور وہ مرگیا۔