حدیث نمبر: 37719
٣٧٧١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن (أبي) (١) عون قال: كان أهل الخير إذا التقوا يوصي بعضهم بعضا بثلاث، وإذا غابوا كتب بعضهم إلى بعض: من عمل لآخرته كفاه اللَّه دنياه، ومن أصلح فيما بينه وبين اللَّه كفاه اللَّه ⦗٤٧٥⦘ الناس، ومن أصلح سريرته أصلح (اللَّه) (٢) علانيته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل خیر جب باہم ملتے تھے تو ان میں سے بعض، بعض کو تین باتوں کی وصیت کرتے تھے اور جب یہ غائب ہوتے تو پھر ایک دوسرے کو یہ تحریر کرتے۔ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے لیے اس کو کافی ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ درست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ جو شخص اپنی خلوت کو درست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جلوت کو درست کردیتے ہیں۔
حواشی
(١) في [س]: (ابن).
(٢) سقط من: [ب].