٣٧٧١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الملك ابن عمير عن ربعي بن (حراش) (١) قال: أُتيتُ فقيل لي: قد مات أخوك، فجئت سريعا وقد سُجي بثوبه، فأنا عند رأس أخي أستغفر له وأسترجع (إذ) (٢) كَشَفَ الثوب عن وجهه فقال: السلام عليكم، فقلنا: وعليك السلام، سبحان اللَّه، قال: سبحان اللَّه، إني قدمت على اللَّه بعدكم، فتُلقيتُ بروح وريحان ورب غير غضبان، وكساني ثيابا خضرا من سندس وإستبرق، ووجدت الأمر أيسر مما تظنون، ولا تتكلوا، وإني استأذنت ربي أخبركم وأبشركم، احملوني إلى رسول اللَّه ﷺ فإنه عهد إلي أن لا أبرح حتى آتيه، ثم طفئ مكانه قال: وأخذ حصاة فرمى بها، قال: فما أدري أهو كان أسرع أم هذه؟حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا تمہارا بھائی مرگیا ہے۔ پس میں جلدی سے آیا۔ اس کو اس کے کپڑوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور میں اپنے بھائی کے سر کے پاس کھڑا اس کے لیے استغفار کررہا تھا۔ اور انا للہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا اور اس نے کہا : السلام علیکم ! ہم نے جواب میں کہا۔ وعلیک السلام۔ سبحان اللہ۔ اس نے کہا : سبحان اللہ۔ میں تمہارے بعد اللہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ وہاں میرا استقبال باد نسیم اور ریحان کے ساتھ اور ایسے پروردگار نے کیا جو غصہ میں نہیں تھا۔ اور مجھے سندس اور ریشم کا سبز لباس پہنایا۔ اور میں نے تمہارے گمان سے بھی آسان معاملہ پایا۔ اور تم بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ۔ میں نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ میں تمہیں خبر دوں اور بشارت دوں۔ تم مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے چلو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں تمہارے آنے تک یہیں رہوں گا۔ پھر یہ صاحب اسی جگہ فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایک کنکری پکڑی اور پھینک دی۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ وہ زیادہ تیز تھے یا یہ۔