٣٧٧٠٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن إبراهيم التيمي قال: كان (من كلامه أن يقول) (١): أي حسرة أكبر على امرئ من أن يرى عبدا كان اللَّه خوله في الدنيا، وهو عند اللَّه أفضل منزلة منه يوم القيامة، وأي حسرة على امرئ أكبر من أن يؤتيه اللَّه مالًا في الدنيا، فيرثه غيره فيعمل فيه بطاعة اللَّه، فيكون وزره عليه وأجره لغيره، وأي حسرة على امرئ أكبر من أن (يرى) (٢) عبدا كان مكفوف البصر في الدنيا قد فتح اللَّه (له) (٣) عن بصره وقد عمي هو، ثم (يقول) (٤): إن من كان قبلكم وكانوا يفرون من الدنيا وهي مقبلة عليهم، ولهم من القدم ما (لهم) (٥)، وإنكم تتبعونها، وهي مدبرة عنكم، ولكم من (الأحداث) (٦) ما لكم، فقيسوا أمركم وأمر القوم.حضرت حصین، ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کے کلام میں سے یہ بات تھی : آدمی کو اس سے بڑی حسرت کیا ہوگی کہ وہ اپنے غلام کو جس کو اللہ نے دنیا میں اس کا غلام بنایا تھا اور وہ غلام اللہ کے ہاں بروز قیامت افضل درجہ پر ہو ؟ آدمی کو اس سے بڑی حسرت کس بات پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال دیا تھا۔ وہ کسی اور کو اس مال کا وارث بنا دے پھر وہ وارث اس مال میں اللہ کی اطاعت کرے۔ پس مال کا گناہ مالک پر اور اس کا ثواب دوسرے کے لیے ہو ؟ اور اس سے بڑی حسرت آدمی کو کیا ہوگی کہ وہ کسی بندے کو دیکھے جو دنیا میں نابینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کھول دی ہے اور یہ نابینا ہوگیا ہے ؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ دنیا سے بھاگتے تھے جبکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اور ان لوگوں کو جو مقام ملتا تھا وہ ملتا تھا۔ لیکن تم لوگ دنیا کی پیروی کرتے ہو اور دنیا نے تم سے منہ پھیرا ہوا ہے اور تمہیں جو عذاب ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ پس تم اپنا اور ان لوگوں کا معاملہ قیاس کرلو۔