حدیث نمبر: 37702
٣٧٧٠٢ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سالم بن أبي حفصة قال: سمعت إبراهيم التيمي يقول: (اللهم) (٢) إنا ضعفاء، من ضعف خلقتنا وإلى ضعف ما نصير، فما شئت (لا) (٣) ما شئنا، (فشء لنا) (٤) أن نستقيم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی حفصہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم تیمی کو کہتے سنا : اے اللہ ! ہم کمزور ہیں۔ اس کمزوری کی وجہ سے جس پر تو نے ہمیں پیدا کیا اور اس کمزوری کی وجہ سے جس کی طرف ہم نے رجوع کرنا ہے جو تو چاہے (وہی ہوتا ہے) نہ کہ جو ہم چاہیں۔ پس تو ہمارے لیے یہ بات چاہ لے کہ ہم استقامت کے ساتھ رہیں۔
حواشی
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب]: (إلا).
(٤) أي: اختر لنا، وفي [ط، هـ]: (فسألنا).