حدیث نمبر: 37688
٣٧٦٨٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي سلمة قال: لم يكن أصحاب النبي ﷺ (متحزقين) (١) ولا (متماوتين) (٢)، وكانوا يتناشدون الشعر في مجالسهم، ويذكرون أمر جاهليتهم، فإذا أريد أحدهم على شيء من أمر دينه دارت حماليق عينيه كأنه مجنون (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کنجوسی کرنے والے اور ادائے عبادت میں کمزوری کرنے والے نہ تھے۔ وہ اپنی مجالس میں شعر پڑھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں یاد کرتے تھے۔ لیکن جب ان کے دین کے کسی معاملہ میں ان میں سے کسی پر ارادہ کیا جاتا تو اس کی آنکھوں کے پپوٹے یوں گھومتے گویا کہ وہ مجنون ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (متحرفين)، وفي [ب]: (منحوفين)، وفي [س]: (متيخزقين)، وفي [ع]: (متمرفين)، وفي [هـ]: (متخرقين).
(٢) في [أ، ب، س]: (متهاونين).