٣٧٦٦٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن إبراهيم مؤذن بني حنيفة قال: رأيت ماهان الحنفي وأمر به الحجاج أن يصلب على بابه، قال: فنظرت إليه وإنه لعلى الخشبة وهو يسبح ويكبر ويهلل ويحمد اللَّه حتى بلغ تسعًا وعشرين، فعقد بيده فطعنه وهو على ذلك الحال، فلقد (رأيت) (١) بعد شهر (٢) تسعًا وعشرين بيده قال: وكان يرى عنده (الضوء) (٣) بالليل.ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ماہان حنفی کو دیکھا اور حجاج نے ان کے بارے میں حکم دیا تھا کہ ان کو ان کے دروازے پر سولی چڑھا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو اس وقت دیکھا جبکہ وہ تختہ پر تھے اور تسبیح، تکبیر، تہلیل اور خدا کی حمد وثنا میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ جب انتیس کو پہنچے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں ان کو نیزہ لگا۔ پھر میں نے ان کو ایک مہینہ کے بعد بھی، اپنے ہاتھ سے انتیس کا عدد شمار کیے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں رات کے وقت ان کے پاس روشنی دیکھی جاتی تھی۔