حدیث نمبر: 37664
٣٧٦٦٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش قال: حدثنا عمارة قال: (خرجنا -معنا) (١) أهل لشريح بن هانئ- إلى مكة، فخرج معنا (يشيعنا) (٢)، قال: فكان فيما قال لنا: أجدوا السير فإن ركبانكم لا تغني عنكم من اللَّه شيئًا، وما فقد الرجل من (الدنيا) (٣) شيئًا أهون عليه من نفسه تركها، قال عمارة: فما ذكرتها من قوله إلا انتفعت بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ کی طرف نکلے اور ہمارے ساتھ حضرت شریح کے گھر والے بھی تھے۔ چناچہ شریح ہمارے ساتھ مشایعت میں باہر آئے تو فرمایا : ان کی باتوں میں یہ بات بھی تھی۔ چلنے میں خوب کوشش کرو کیونکہ تمہارے سوار تمہیں خدا کی طرف سے کسی چیز کا فائدہ نہیں دیں گے۔ اور آدمی دنیا میں سے کوئی چیز اپنی جان سے ہلکی نہیں چھوڑتا۔ عمارہ کہتے ہیں میں نے ان کی بات یاد رکھی اور اس سے فائدہ اٹھایا۔
حواشی
(١) في [أ]: (خرج معنا)، وفي [س]: (خرجنا مع).
(٢) في [أ، ب]: (شيعنا).
(٣) في [أ]: (الدني).