٣٧٦٦٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (١) مالك بن الحارث عن عبد اللَّه ابن ربيعة قال: قال عتبة (بن) (٢) فرقد لعبد اللَّه بن ربيعة: يا عبد اللَّه ألا تعينني على ابن أخيك، قال: وما ذاك؟ قال: يعينني على ما أنا فيه من عمل، فقال له عبد اللَّه: يا عمرو أطع أباك، قال: فنظر إلى معضد وهو جالس فقال: ﴿كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ﴾ [العلق: ١٩]، قال: فقال عمرو: يا أبت إنما أنا عبد أعمل في فكاك رقبتي، قال: فبكى عتبة، وقال: (يا بني) (٣) (إني) (٤) لأحبك حبين: حبا للَّه، وحب الوالد ولده، قال: فقال عمرو: يا أبت إنك كنت أتيتني بمال بلغ سبعين ألفًا، (فإن) (٥) كنت سائلي عنه فهو ذا فخذه، وإلا فدعني فأمضيه، قال له عتبة: فأمضه، قال: فأمضاه حتى ما بقي منه درهم.حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے عبد اللہ بن ربیعہ سے کہا : اے عبداللہ ! کیا آپ اپنے بھتیجے کے بارے میں میری مدد نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا : وہ کیا مدد ہے ؟ انہوں نے کہا : میں جس کام میں ہوں وہ میری اس میں مدد کرے۔ تو عبداللہ نے اس سے کہا : اے عمرو ! اپنے والد کی اطاعت کر۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے حضرت معضد کی طرف دیکھا۔ وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا : تو ان کی اطاعت نہ کر { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو نے فرمایا : اے میرے ابا جان ! میں تو محض ایک غلام ہوں جو اپنی گردن چھڑانے میں عمل کررہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر عتبہ رو پڑے اور کہا : اے میرے بیٹے ! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک اللہ کے لیے محبت اور (دوسری) والد کی اپنے بیٹے سے محبت۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو نے کہا : اے ابا جان ! آپ میرے پاس ستر ہزار کے مبلغ مال لائے تھے۔ پس اگر آپ اس مال کے متعلق مجھ سے سوال کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے اس کو لے لو۔ وگرنہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اس کو خرچ کروں۔ عتبہ نے اس کو کہا : تم اس کو خرچ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اس کو اس طرح خرچ کیا کہ اس میں سے ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔