حدیث نمبر: 37635
٣٧٦٣٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي إسحاق عن عمرو بن شرحبيل قال: مات رجل يرون أن عنده ورعا، فأتي في قبره فقيل (له) (١): إنا جالدوك مائة جلدة من عذاب اللَّه، قال: فيم تجلدوني؟ فقد كنت أتوقى وأتورع، فقيل: خمسون، فلم يزالوا يناقصونه حتى صار (إلى) (٢) جلدة فجُلد، فالتهب القبر ⦗٤٥٥⦘ عليه نارا وهلك الرجل ثم أعيد فقال: فيم جلدتموني؟ (قالوا) (٣): صليت يوم تعلم وأنت على غير وضوء، واستغاثك الضعيف المسكين فلم تغثه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مرگیا لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پرہیزگار ہے۔ پس اس کی قبر میں کوئی آیا اور اس کو کہا گیا ہم تمہیں عذاب خداوندی کے سو کوڑے ماریں گے۔ اس نے کہا : تم مجھے کس وجہ سے کوڑے مارو گے جبکہ میں خوب بچتا تھا اور پرہیزگاری کرتا تھا ؟ اس کو کہا گیا پچاس۔ کم ہوتے ہوتے ایک کوڑے تک آگئے۔ چناچہ اس کو ایک کوڑا لگایا گیا تو قبر آگ سے بھڑک اٹھی اور وہ شخص ہلاک ہوگیا پھر اس کو دوبارہ پیدا کیا گیا تو اس نے کہا : تم نے مجھے کس وجہ سے کوڑا مارا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا ایک دن تو نے یہ جانتے ہوئے نماز پڑھی کہ تو بغیر وضو کے ہے اور ایک کمزور مسکین نے تجھ سے مدد طلب کی لیکن تو نے اس کی مدد نہ کی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [س]: تكررت.
(٣) في [ع]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37635
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37635، ترقيم محمد عوامة 36051)