حدیث نمبر: 37608
٣٧٦٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: كان رجل بالبادية له كلب وحمار وديك، قال: فالديك يوقظهم للصلاة، والحمار ينقلون عليه الماء، وينتفعون به ويحملون لهم خباءهم، والكلب يحرسهم، فجاء ثعلب فأخذ الديك فحزنوا لذهاب الديك، وكان الرجل صالحا فقال: عسى أن يكون خيرًا، (قال) (١): (فمكثوا) (٢) ما شاء اللَّه ثم جاء ذئب، فشق بطن الحمار فقتله ⦗٤٤٩⦘ فحزنوا لذهاب الحمار، فقال الرجل الصالح: عسى أن يكون خيرا، ثم مكثوا بعد ذلك ما شاء اللَّه، ثم أصيب الكلب، فقال الرجل الصالح: عسى أن يكون خيرا، فلما أصبحوا نظروا فإذا هو قد سُبي من حولهم و (بقوا هم) (٣)، قال: فإنما أخذوا أولئك بما كان عندهم من الصوت (والجلبة) (٤)، ولم يكن عند أولئك شيء (يجلب) (٥)، قد ذهب كلبهم وحمارهم وديكهم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغا تھا۔ فرماتے ہیں : مرغا ان کو نماز کے لیے اٹھاتا تھا اور گدھے پر وہ پانی ادھر ادھر لے جاتے تھے اور اس سے منتفع ہوتے اور وہ ان کے لیے ان کے خیمہ کو اٹھاتا تھا۔ اور کتا ان کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر ایک لومڑی آئی اور اس نے مرغا پکڑا۔ ان لوگوں کو مرغ کے چلے جانے کا غم ہوا لیکن وہ آدمی نیک تھا تو اس نے کہا ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہو۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جتنی دیر اللہ نے چاہا اسی طرح رہے پھر بھیڑیا آیا تو اس نے گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ چناچہ وہ لوگ گدھے کے جانے پر بھی غمگین ہوئے لیکن نیک آدمی نے کہا ہوسکتا ہے اسی میں خیر ہو۔ پھر کتا بھی مرگیا۔ تو اس مرد صالح نے کہا ہوسکتا ہے یہی بہتر ہو۔ پھر جب ان لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ تو قید کرلیے گئے ہیں اور یہ بچ گئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ لوگ اس لیے پکڑے گئے تھے کہ ان کے پاس آوازیں اور چیخ و پکار تھی۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی شور مچانے والی چیز نہ تھی۔ ان کا کتا، گدھا اور مرغ تو مرگئے تھے۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ب]: (مكثوا).
(٣) في [أ، ب]: (بقوهم).
(٤) في [جـ]: (في الجاهلية).
(٥) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37608
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37608، ترقيم محمد عوامة 36024)