٣٧٦٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق قال: لما قدم من السلسلة أتاه أهل الكوفة وأتاه ناس من التجار، فجعلوا يثنون عليه ويقولون: جزاك اللَّه خيرا، ما كان (أعفك) (٢) عن أموالنا، فقرأ هذه الآية: ﴿(أَفَمَنْ) (٣) وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَنْ مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [القصص: ٦١].حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مقام سلسلہ سے واپس آئے تو اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور ان کے پاس تاجر لوگ آئے اور آپ کی تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے۔ آپ ہمارے مالوں سے کس قدر مستغنی تھے۔ اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی : { أَفَمَنْ وَعَدْنَاہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لاَقِیہِ کَمَنْ مَتَّعْنَاہُ مَتَاعَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا }۔ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اسے حاصل کرے گا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی میں فائدے کی چیزیں دے دی ہیں۔