٣٧٥٨٨ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عبد الملك بن عمير قال: (قيل) (١) للربيع: (ألا) (٢) ندعو لك طبيبا؟ فقال: أنظروني، ثم تفكر فقال: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا (٣٨) وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا﴾ [الفرقان: ٣٨ - ٣٩]، فذكر من حرصهم على الدنيا ورغبتهم فيها، (قال) (٣): (فقد) (٤) كانت فيهم أطباء، فلا المداوي بقي، ولا المداوى، هلك (الناعت والمنعوت) (٥) له، واللَّه لا تدعون لي طبيبا.حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع سے کہا گیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں ؟ آپ نے فرمایا : تم مجھے مہلت دے دو ۔ پھر آپ نے فکر فرمایا تو کہا : { وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر آپ نے ان لوگوں کی دنیوی زندگی پر حرص اور اس زندگی کی رغبت ذکر فرمائی۔ فرمایا : یہ لوگ بیمار ہوئے اور کچھ ان میں حکیم تھے لیکن دوائی کھانے والا بھی باقی نہ رہا اور دوائی کھلانے والا بھی باقی نہ رہا۔ صفت کرنے والا اور صفت کیا ہوا دونوں ہلاکت کا شکار ہوئے۔ بخدا ! تم لوگ میرے لیے حکیم کو نہ بلاؤ۔