حدیث نمبر: 37586
٣٧٥٨٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين قال: حدثني من سمع الربيع يقول: عجبا لملك الموت وإتيانه ثلاثة: مَلِك ممتنع في حصونه، فيأتيه فينزع نفسه، ويدع ملكه خلفه، (وطبيب) (١) (نحرير) (٢) يداوي الناس فيأتيه فينزع نفسه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں ملک الموت اور اس کا تین آدمیوں کے پاس آنا قابل تعجب ہے۔ (ایک) اپنے قلعوں میں بند بادشاہ کہ فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس کی روح نکالتا ہے اور اس کے ملک کو اس کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور ماہر طبیب جو لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح نکال لیتا ہے۔
حواشی
(١) سقط في [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (نحر يرى).
(٣) لم يذكر الثالث، وجاء في حلية الأولياء ٢/ ١١٥ ذكر الثالث: (ومسكين منبوذ في الطريق يقذره الناس أن يدنو منه ولا يقذره ملك الموت أن يأتيه فينزع نفسه).