حدیث نمبر: 37583
٣٧٥٨٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن منذر عن الربيع أنه قال لأهله: اصنعوا لي خبيصا، فصنع فدعا رجلًا به (خبل) (١) فجعل ربيع يلقمه (ولعابه) (٢) ⦗٤٤٣⦘ يسيل، فلما أكل وخرج قال له أهله: تكلفنا، وصنعنا، ثم أطعمته؟ (٣) ما يدري هذا ما أكل؟ قال الربيع: لكن اللَّه يدري.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیع کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم میرے لیے حلوہ بناؤ۔ چناچہ حلوہ پکایا گیا پھر انہوں نے ایک پاگل آدمی کو بلایا اور حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کردینا شروع کیا اور اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ پس جب اس نے کھالیا اور چلا گیا تو گھر والوں نے حضرت ربیع سے کہا ہم نے تکلف کیا اور تیار کیا پھر آپ نے وہ ایسے آدمی کو کھلا دیا جس کو معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا کھایا ہے۔ حضرت ربیع نے فرمایا : لیکن اللہ کو تو معلوم ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (خيل).
(٢) في [س]: (ويعابه).
(٣) في [ع]: زيادة (رجلًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37583
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37583، ترقيم محمد عوامة 35999)