حدیث نمبر: 37576
٣٧٥٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان الثوري عن أبيه عن بكر بن ماعز قال: قال (لي) (١) الربيع بن خثيم: يا بكر اخزن عليك لسانك إلا مما لك، ولا عليك (٢)، فإني اتهمت الناس على ديني، (أطع) (٣) اللَّه فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى (عالمه) (٤)؛ لأنا عليكم في العمد أخوفُ مني عليكم في الخطأ، وما خيركم اليوم بخيره، ولكنه خير من آخر شر منه، (ما تتبعون) (٥) الخير كل اتباعه، ولا تفرون من الشر حق (فراره) (٦)، ما كل ما أنزل اللَّه على محمد أدركتم، ⦗٤٤١⦘ و (لا) (٧) (كل) (٨) ما تقرؤون تدرون (ما هو) (٩)، السرائر اللاتي (يخفين) (١٠) على الناس (وهي) (١١) للَّه (بواد) (١٢) ابتغوا دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواءها؟ أن تتوب ثم لا تعود.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بکر بن ماعز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے مجھے کہا : اے بکر ! اپنی زبان کو اپنی حفاظت میں رکھ مگر وہ بات جو تیرے فائدہ میں ہو۔ تیرے خلاف نہ ہو۔ کیونکہ میں نے اپنے دین کے بارے میں لوگوں کو متہم پایا ہے۔ جو تمہیں معلوم ہے اس میں اللہ کی اطاعت کر اور جو چیز تمہارے علم میں نہ ہو تو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردے۔ مجھے تمہارے اوپر جان بوجھ کر کیے جانے والے عمل کا، غلطی سے ہونے والے عمل کی بہ نسبت زیادہ خوف ہے۔ تم میں سے جو آج خیر پر ہے وہ بہتر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اپنے آخری شر سے بہتر ہیں، تم لوگ خیر کی مکمل اتباع نہیں کرتے اور تم شر سے کماحقہ فرار اختیار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر جو کچھ اتارا ہے تم نے اس کو سارا نہیں پایا۔ اور جو کچھ تم پڑھتے ہو اس سارے کو تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے۔ وہ پوشیدہ باتیں جو لوگوں پر مخفی ہوتی ہیں وہ اللہ کے لیے تو ظاہر ہیں۔ تم اس کا علاج تلاش کرو۔ پھر آپ نے اپنے آپ سے کہا : اس کا علاج کیا ہے ؟ یہ کہ تم توبہ کرو اور پھر اس کی طرف عود نہ کرو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) أي: لن يضرك شيء.
(٣) في [س]: (أطيع).
(٤) في [أ، ب]: (علله).
(٥) في [س]: (ما تبعون).
(٦) في [س]: (قراره).
(٧) في [أ، ب]: (وبلا).
(٨) في [أ، ب]: تكررت.
(٩) في [س]: بياض.
(١٠) في [ع]: (تخفون).
(١١) في [هـ]: (هن).
(١٢) في [أ، ب]: (توآد)، وفي [س]: (لواد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37576، ترقيم محمد عوامة 35992)