٣٧٥٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) أنه أوصى عند موته فقال: هذا ما أقر به الربيع بن خثيم على نفسه، وأشهد (٢) ⦗٤٤٠⦘ عليه، وكفى باللَّه شهيدا، (وجازيا لعباده) (٣) الصالحين (ومثيبًا) (٤): أني رضيت باللَّه ربا، وبالإِسلام دينا، وبمحمد نبيا، ورضيت لنفسي ولمن أطاعني أن أعبده في العابدين، وأن أحمده في الحامدين وأن أنصح لجماعة المسلمين.حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے وقت وصیت کی۔ فرمایا : یہ وہ باتیں ہیں جن کا ربیع بن خثیم اپنی ذات کے بارے میں اقرار کرتا ہے اور اس پر گواہی دیتا ہے اور گواہی کے لیے خدا ہی کافی ہے۔ اور اپنے نیک بندوں کو بدلہ دینے کے لیے کافی ہے اور ثواب دینے کے لیے کافی ہے۔ میں اللہ پر رب ہونے کے اعتبار سے راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں اور اپنے نفس کے لیے اور اس کے لیے جو میری فرمانبرداری کرے اس بات پر راضی ہوں کہ میں عبادت کرنے والوں میں خدا کی عبادت کروں اور حمد کرنے والوں میں خدا کی حمد کروں اور میں مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی کروں۔