٣٧٥٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن أبي (الوداك) (١) عن أبي سعيد قال: إن إبراهيم يلقاه أبوه يوم القيامة فيتعلق به، فيقول له إبراهيم: قد كنت آمرك وأنهاك فعصيتني، قال: ولكن اليوم لا أعصيك، قال: (فيقبل) (٢) إبراهيم إلى الجنة وهو معه، قال: فيقال له: يا إبراهيم دعه، قال: فيقول: إن اللَّه وعدني أن لا يخذلني اليوم، قال: فيأتي (إبراهيم) (٣) آت من ربه ملك (فيسلم عليه) (٤) فيرتاع (له) (٥) إبراهيم ويكلمه ويشغل حتى يلهو عن أبيه، قال: فينطلق الملك ويمشي إبراهيم نحو الجنة، قال: فيناديه أبوه يا إبراهيم، قال: فيلتفت إليه وقد غُير خلقه، قال: فيقول إبراهيم: أف أف (ثم يستقيم ويدجعه ويدعه) (٦) (٧) (٨).حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم کے والد کی حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوگی۔ وہ حضرت ابراہیم سے لپٹ جائیں گے تو حضرت ابراہیم ان سے کہیں گے۔ تحقیق میں نے آپ کو حکم دیا اور آپ کو منع کیا لیکن آپ نے میری نافرمانی کی۔ والد کہیں گے : لیکن آج تو میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم جنت کی طرف چل دیں گے اور وہ بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم کو کہا جائے گا۔ اے ابراہیم ! اس کو چھوڑ دے۔ راوی کہتے ہیں وہ کہیں گے تحقیق اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے آج کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پاس ان کے پروردگار کے پاس سے ایک فرشتہ آئے گا اور انہیں سلام کہے گا۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اس سے کلام کریں گے۔ اور ایسے مصروف ہوں گے کہ اپنے والد سے غافل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر فرشتہ چلنے لگے گا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ جنت کی طرف چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں اس پر ان کے والد ان کو آواز دیں گے۔ اے ابراہیم ! راوی کہتے ہیں آپ اس کی طرف التفات کریں گے تو اس کی خلقت ہی بدل چکی ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے۔ اُف، اُف۔ پھر آپ علیہ السلام سیدھے ہوجائیں گے اور اس کو چھوڑ دیں گے۔