حدیث نمبر: 37563
٣٧٥٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن (معن) (١) عن عون بن عبد اللَّه قال: بينا رجل في بستان بمصر في فتنة ابن الزبير جالس مهموم حزين ينكت في الأرض، إذ رفع رأسه فإذا صاحب مسحاة قائم بين يديه، فقال صاحب المسحاة: (ما لي أراك مهموما حزينا؟ فكأنه ازدراه، فقال: لا شيء، (فقال) (٢) صاحب المسحاة) (٣): إن ⦗٤٣٦⦘ (يكن) (٤) للدنيا (٥)، فالدنيا عرض حاضر، يأكل منه البر والفاجر، وإن الآخرة أجلٌ صادق، يحكم فيه ملك قادر، (٦) يفصل بين الحق والباطل، حتى ذكر أن لها مفاصل مثل مفاصل اللحم، من أخطأ منها شيئًا أخطأ الحق، فلما سمع بذلك قال: اهتمامي بما فيه المسلمون، قال: فقال: فإن اللَّه سينجيك بشفقتك على المسلمين، وسل من ذا الذي سأل اللَّه فلم يعطه؟ ودعا اللَّه فلم يجبه؟ (وتوكل عليه فلم يكفه؟) (٧) ووثق به فلم ينجه؟ قال: فطفقت أقول: اللهم سلمني وسلم مني، قال: فتجلت ولم أصب (منها) (٨) بشيء (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے وقت میں ایک آدمی مصر میں ایک باغ میں فکر مند، غمگین بیٹھا ہوا زمین پر کرید رہا تھا کہ اس دوران اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ایک بیلچے والے آدمی کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ بیلچے والے نے کہا کیا بات ہے کہ میں تمہیں فکر مند اور غمگین پاتا ہوں ؟ گویا کہ اس نے اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے کہا : کوئی بات نہیں۔ اس پر بیلچے والے نے کہا : اگر تو یہ دنیا کی خاطر ہے تو دنیا ایک حاضر سامان ہے جس سے نیک اور بد کھاتا ہے۔ اور آخرت ایک سچا وقت ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا۔ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہاں تک کہ اس نے ذکر کیا کہ اس کے گوشت کی طرح مفاصل ہیں۔ جوان میں سے کسی شے میں غلطی کرے گا وہ حق سے غلطی کر بیٹھے گا۔ جب اس آدمی نے یہ باتیں سنیں تو کہا میری فکر مندی مسلمانوں کے اندرونی مسئلہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس آدمی نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے مسلمانوں پر شفقت کی وجہ سے نجات دے گا اور تم سوال کرو۔ وہ کون شخص ہے جس نے اللہ سے مانگا ہو پھر اس کو عطا نہ کیا گیا ہو ؟ اس نے اللہ سے دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو ؟ خدا پر توکل کیا ہو اور خدا اس کو کافی نہ ہوا ہو ؟ اور خدا پر بھروسہ کیا ہو اور خدا نے اس کو نجات نہ دی ہو ؟ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ میں نے کہنا شروع کیا۔ اے اللہ ! تو مجھے بھی سلامت رکھنا اور مجھ سے بھی سلامتی رکھنا۔ کہتے ہیں پس وہ فتنہ ختم ہوگیا اور مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) سقط من: [س].
(٤) ففي [أ، ب]: (يكون).
(٥) في [س، ع]: زيادة (في).
(٦) في [جـ، ع]: زيادة (حتى ذكر).
(٧) في [جـ]: (توكل على اللَّه).
(٨) في [جـ]: (منه).
(٩) انظر: الحادثة في الحلية ٤/ ٢٤٤، والفتن لنعيم (٥٠٨)، والدعاء للطبراني (١٣٣١)، والزهد لهناد (٧٨٤)، والهواتف لابن أبي الدنيا (١٢١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37563
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37563، ترقيم محمد عوامة 35979)