حدیث نمبر: 37562
٣٧٥٦٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم (١) عن أبيه عن جده عبد الرحمن بن عوف أنه أتي بطعام فقال عبد الرحمن: قتل حمزة ولم (يجد) (٢) ما (نكفنه) (٣) وهو خير مني، وقتل مصعب بن عمير وهو خير مني ولم (يجد) (٤) ما (نكفنه) (٥)، وقد أصبنا منها ما أصبنا، ثم قال عبد الرحمن: (إني) (٦) لأخشى أن نكون قد عجلت لنا طيباتنا في الدنيا (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا تو حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : حضرت حمزہ قتل کیے گئے لیکن ہمارے پاس ان کے کفن دینے کے لیے کچھ موجود نہیں تھا جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے اور مصعب بن عمیر کو قتل کیا گیا وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ہمارے پاس ان کی تکفین کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ جبکہ ہمیں اس دنیا سے جو ملا ہے وہ تو ملا ہے پھر حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری پاکیزہ چیزیں ہمیں دنیا ہی میں تو پیشگی نہیں دے دی گئیں۔

حواشی
(١) في [ب]: زيادة (بن إبراهيم).
(٢) في [أ، ط]: (نجد).
(٣) في [س]: (يكفيه)، وفي [هـ]: (يكفنه).
(٤) في [أ، ط]: (نجد).
(٥) في [س]: (يكفيه)، وفي [هـ]: (يكفنه).
(٦) في [ب]: (أبي)، وفي [هـ]: (إلى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37562
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٧٤)، وابن حبان (٧٠١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37562، ترقيم محمد عوامة 35978)