٣٧٥٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من (أهل) (١) العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك فإني أحمد (إليك اللَّه) (٢) الذي لا إله إلا (هو) (٣)، أما بعد فإن لأهل طاعة اللَّه وأهل الخير علامة يعرفون بها و (تعرف) (٤) فيهم من الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة اللَّه، وأعلم (الناس) (٥) أن الإمام (مثل) (٦) السوق يأتيه ما (كان) (٧) فيه، فإن كان برا جاءه أهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه أهل الفجور بفجورهم (٨).حضرت وہب بن کیسان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو ایک عراقی آدمی نے آپ کو خط لکھا : ” تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد ! پس اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اہل خیر کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اور وہ چیزیں ان میں پہچانی جاتی ہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، خدا کی فرمانبرداری والے عمل اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے۔ اس میں جو ہوگا وہی اس کے پاس آئے گا۔ اگر امام نیک ہوگا تو نیک لوگ اپنی نیکی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے اور اگر امام فاجر ہو تو اہل فجور اس کے پاس اپنے فجور کے ساتھ آئیں گے۔