حدیث نمبر: 37550
٣٧٥٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أنس قال: (كنا) (١) مع أبي موسى في (منزله) (٢) فسمع الناس يتكلمون فسمع فصاحة وبلاغة، قال: فقال: يا أنس هلم فلنذكر اللَّه (ساعة) (٣)، فإن هؤلاء يكاد أحدهم أن (يفري) (٤) الأديم بلسانه، ثم قال: يا أنس ما ثبط الناس عن الآخرة؟ ما ثبطهم عنها؟ قال: قلت: الدنيا والشهوات، قال: لا، ولكن غيبت الآخرة، وعجلت الدنيا، ولو عاينوا ما عدلوا بينهما (ولا ميلوا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر پر تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور انہوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ سنا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا : اے انس ! آؤ، ہم کچھ دیر اللہ کا ذکر کرلیں۔ کیونکہ یہ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان سے چمڑے کو کاٹ دے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کس چیز نے لوگوں کو آخرت سے روکا ہے ؟ کس چیز نے انہیں اس سے روکا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : دنیا اور خواہشات۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ بلکہ آخرت آنکھوں سے غائب ہے اور دنیا حاضر ہے۔ اگر لوگ معائنہ کرلیں تو ان کے درمیان عدل نہ کریں اور نہ متردد ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (كنت).
(٢) في [هـ]: (مسير له).
(٣) في [أ، ب]: (بساعة).
(٤) في [هـ]: (يغري).
(٥) في [أ، ب]: (ملكوا)، وفي [جـ، س]: (مثلوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم ١/ ١٥٩، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٦٦٧)، وابن عساكر ٣٢/ ٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37550، ترقيم محمد عوامة 35966)