حدیث نمبر: 37549
٣٧٥٤٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي (كبشة) (١) عن أبي موسى قال: الجليس الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من جليس السوء، ألا إن مثل (الجليس الصالح) (٢) كمثل العطر، (إلا) (٣) (يحذك) (٤) (يعبق) (٥) بك من ⦗٤٣١⦘ ريحه، ألا (وإن) (٦) مثل جليس السوء كمثل (الكير) (٧) (إلا) (٨) يحرقك يعبق بك من ريحه، ألا وإنما سمي القلب من تقلبه، ألا وإن مثل القلب مثل ريشة متعلقة بشجرة في فضاء من الأرض فالريح تقلبها ظهرا وبطنا (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم نشین، خلوت سے بہتر ہوتا ہے اور خلوت، برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ خبردار ! اچھے ہم نشین کی مثال عطر کی سی ہے اگر وہ تجھے نہ بھی دے تو بھی خوشبو لگ کر تم مہک جاؤ گے۔ اور خبردار ! برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی دھونی کی سی ہے اگر وہ تمہیں نہ جلائے تو اس کی بو تمہیں پہنچ جائے گی۔ خبردار ! دل کو دل اس کے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ خبردار ! دل کی مثال زمین کے اوپر فضا میں درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی سی ہے۔ کہ ہوا اس کو اوپر، نیچے کی جانب پلٹتی رہتی ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (كشبة).
(٢) في [جـ]: (جليس الصالح)، وفي [هـ]: (جليس الخير).
(٣) في [ع]: (لا).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (يجدك)، وفي [س]: (يخذك).
(٥) في [س]: (يعتق).
(٦) في [أ، جـ، ع]: (وإنما).
(٧) في [ع]: (الكيران).
(٨) في [ع]: (لا).
(٩) مجهول؛ لجهالة أبي كبشة، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٥٨)، وهناد في الزهد (١٢٣٧)، وورد مرفوعًا عند أحمد (١٩٦٦٠)، وأصله عند البخاري (٢١٠١)، ومسلم (٢٦٢٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37549
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37549، ترقيم محمد عوامة 35965)