٣٧٥٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن أبي موسى قال: تخرج نفس المؤمن وهي أطيب (ريحا من) (١) المسك، قال: (فيصعد) (٢) بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا (معكم؟) (٣) فيقولون: فلان -ويذكرونه بأحسن عمله، فيقولون: حياكم اللَّه وحيا من معكم، قال: فتفتح له أبو اب السماء، قال: فيشرق وجهه فيأتي الرب ولوجهه برهان مثل الشمس، قال: وأما الآخر فتخرج نفسه وهي أنتن من الجيفة، فيصعد بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا ⦗٤٣٠⦘ ((معكم؟) (٤) فيقولون: فلان) (٥) -ويذكرونه باسوأ أعماله، قال: فيقولون: ردوه فما ظلمه اللَّه شيئًا (٦)، قال: وقرأ أبو موسى: ﴿وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [الأعراف: ٤٠] (٧).حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح نکلتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر جن فرشتوں نے اس روح کو نکالا ہوتا ہے وہ فرشتے اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کو آسمان سے پہلے ہی اور فرشتے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ یہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں ہے اور فرشتے اس کا ذکر اس کے بہترین عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ اس پر سوال کرنے والے فرشتے کہتے ہیں : خدا تعالیٰ تم پر بھی رحمت کرے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس پر بھی رحمت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پس وہ پروردگار کے پاس آتا ہے تو اس کے چہرے میں سورج کی مثل دلیل موجود ہوتی ہے۔ فرمایا : اور جو دوسرا ہے اس کی روح نکلتی ہے جبکہ وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ جو فرشتے اس کو نکالتے ہیں وہ اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمان سے پہلے کچھ فرشتے انہیں ملتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ کون ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں فلاں ہے۔ اور اس کے بدترین عمل کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : اس پر وہ فرشتے کہتے ہیں : اس کو واپس کردو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : { وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ }