حدیث نمبر: 37541
٣٧٥٤١ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن الأعمش عن عمارة (٢) بن حمزة شهر بن حوشب قال: جاء رجل إلى عبادة بن الصامت فقال: رجل يصلي يبتغي وجه اللَّه ويحب أن يحمد، قال: ليس بشيء، إن اللَّه (٣) يقول: أنا خير شريك، فمن كان له معي شريك فهو (له) (٤) كله لا حاجة لي فيه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا : ایک آدمی اللہ کی رضا کے لیے نماز پڑھتا ہے اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ عمل کچھ (کام کا) نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے : میں بہتر شریک ہوں۔ پس جس آدمی کی میرے ساتھ شرکت ہو تو وہ چیز ساری اسی کی ہے۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ع]: (يحيى).
(٢) انظر: ترجمته في تاريخ بغداد ١٢/ ٢٨٠، وعند ابن جرير سماه: (حمزة أبو عمارة)، وانظر: تفسير ابن كثير ٣/ ١٠٩.
(٣) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٤) سقط من: [س].
(٥) منقطع، شهر لا يروي عن عبادة، وأخرجه ابن جرير ١٦/ ٤٠، وابن أبي حاتم في العلل ٢/ ١٢٠، وهناد (٨٥١).