٣٧٥٣١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن أبي وائل شقيق عن خالد بن ربيع العبسي قال: لما بلغنا ثقل حذيفة خرج إليه نفر من بني عبس ونفر من الأنصار معنا أبو مسعود، قال: فانتهينا إليه في بعض الليل فقال: أي ساعة هذه؟ قلنا: ساعة كذا وكذا، قال: أعوذ باللَّه من (صباح) (١) إلى النار، هل جئتموني معكم (بكفن؟) (٢) قلنا: نعم، قال: فلا (تغالوا) (٣) بكفني فإن يكن لصاحبكم خير عند اللَّه يبدل خيرا منه وإلا (سلب) (٤) سريعًا (٥).حضرت خالد بن ربیع عبسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تکلیف کی خبر پہنچی تو بنو عبس کا ایک گروہ ان کے پاس گیا اور ایک گروہ انصار کا گیا اور ہمارے ساتھ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی کہتے ہیں ہم ان کے پاس رات کے کسی حصہ میں پہنچے۔ انہوں نے پوچھا : یہ کون سا وقت ہے ؟ ہم نے کہا : یہ یہ وقت ہے۔ انہوں نے فرمایا : میں صبح کے وقت خدا کی جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیا تم اپنے ساتھ میرے پاس کفن لے کر آئے ہو ؟ ہم نے کہا ہاں۔ انہوں نے فرمایا : تم میرے کفن کو قیمتی نہ بنانا۔ کیونکہ اگر تمہارے ساتھی کے لیے عند اللہ کوئی خیر ہوئی تو وہ اس کے بدلہ میں بہتر کفن پالے گا وگرنہ یہ بھی جلد ہی اتار لیا جائے گا۔