حدیث نمبر: 37519
٣٧٥١٩ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن تميم بن طرفة قال: سمعت الضحاك بن قيس يقول: يا أيها الناس اعملوا أعمالكم للَّه، فإن اللَّه لا يقبل إلا عملا خالصًا (٢)، لا يعفو أحد منكم عن مظلمة فيقول: هذا للَّه ولوجوهكم، فليس للَّه (٣) إنما هي لوجوههم، ولا يصل أحد منكم رحمه فيقول: هذا للَّه وللرحم، إنما هو للرحم ومن عمل عملا فيجعله للَّه، ولا يشرك فيه شيئًا فإن اللَّه يقول يوم القيامة: من أشرك بي شيئًا في عمل عمله فهو (لشريكه) (٤) ليس لي منه شيء (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ضحاک بن قیس بیان فرماتے ہیں : اے لوگو ! تم اپنے اعمال اللہ کے لیے کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف خالص عمل کو قبول کرتا ہے وہ تم میں سے کوئی کسی کے ظلم کو معاف نہ کرے کہ وہ کہے : یہ خدا کے لیے اور تمہارے لیے ہیں۔ پس یہ عمل اللہ کے لیے نہیں ہے۔ وہ عمل صرف تمہارے لیے ہی ہے اور تم میں سے کوئی کسی کے ساتھ صلہ رحمی یوں نہ کرے کہ کہے یہ خدا کے لیے بھی ہے اور رشتہ داروں کے لیے بھی ہے۔ یہ عمل صرف رشتہ داروں کے لیے ہے جو شخص کوئی عمل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ خالص اللہ کے لیے عمل کرے اور اس کے اندر کسی کو شریک نہ کرے۔ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جس شخص نے اپنے کسی عمل میں میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا ہے تو پس وہ عمل اس شریک کے لیے ہوگا میرے لیے اس میں سے کچھ نہیں ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [جـ]: زيادة (صالحًا).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (و).
(٤) في [س]: (شريكه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه هناد (٨٥٠)، وورد بعضه مرفوعًا، أخرجه الدارقطني ١/ ٥١، والضياء ٨/ (٩٢)، وابن قانع ٢/ ٣٢، والبيهقي في الشعب (٦٨٣٦)، والبزار كما في الأحكام الكبرى ٣/ ٢٦٧، وابن عساكر ٢٤/ ٢٨١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37519، ترقيم محمد عوامة 35937)