٣٧٤٩٥ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن سعد بن عبيدة عن البراء ابن عازب قال: في قوله: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ ⦗٤١٢⦘ الدُّنْيَا﴾ [إبراهيم: ٢٧]، قال: التثبيت في الحياة الدنيا (إذا جاء الملكان) (٢) إلى الرجل في القبر فقالا له: من ربك؟ فقال: ربي اللَّه، وقالا: ما دينك؟ قال: ديني الإسلام، قالا: ومن نبيك؟ قال: محمد قال: فذلك التثبيت في الحياة الدنيا (٣).حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد خداوندی { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } کے بارے میں فرمایا : ” دنیوی زندگی میں ثابت قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ قبر میں جب دو فرشتے آدمی کے پاس آتے ہیں تو وہ دونوں اس آدمی سے کہتے ہیں : تیرا پروردگار کون ہے ؟ وہ آدمی جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے۔ پھر وہ دونوں پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ پھر یہ پوچھتے ہیں : تیرا نبی کون ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے محمد ﷺ ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دنیوی زندگی میں ثابت قدمی سے یہی مراد ہے۔