حدیث نمبر: 37484
٣٧٤٨٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن محمد بن خالد أن أنسا كان يقول: ما من روحة ولا غدوة إلا (تنادي) (١) كل بقعة جارتها: يا جارتي ⦗٤٠٩⦘ (هل) (٢) مرّ بك اليوم نبي أو صديق أو عبد ذاكر للَّه عليك؟ فمن قائلة: نعم، ومن قائلة: لا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن خالد سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کوئی صبح یا کوئی شام نہیں گزرتی مگر یہ کہ زمین کا ہر ٹکڑا، اپنے ساتھ والے ٹکڑے کو آواز دیتا ہے۔ اے میرے ساتھی ! آج کے دن کب تیرے پاس سے نبی، صدیق یا خدا کو یاد کرنے والے کا گزر ہوا ہے ؟ پس بعض ٹکڑے کہتے ہیں ہاں اور بعض ٹکڑے کہتے ہیں نہیں۔

حواشی
(١) في [ع]: (ينادي).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (متى).
(٣) لم أستطع تمييز محمد بن خالد؛ ولعل الصواب: (محمد بن جحادة)، والخبر أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٣٥)، والطبراني في الأوسط (٥٦٢)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١٧٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37484، ترقيم محمد عوامة 35902)