حدیث نمبر: 37452
٣٧٤٥٢ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا حريز بن عثمان قال: حدثني حبان بن زيد الشرعبي (١) قال: وكان (ودا) (٢) للنعمان، وكان النعمان استعمله على (النبك) (٣) قال: فسمع النعمان يقول: ألا إن عمال اللَّه ضامنون على اللَّه، ألا إن عمال بني آدم لا يملكون ضمانهم، قال: فلما نزل النعمان (عن) (٤) منبره أتاه فاستعفى فقال: مالك؟ قال: سمعتك تقول كذا وكذا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبان بن زید بیان کرتے ہیں … یہ حضرت نعمان کے بہت دوست تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مقام نبک پر عامل مقرر کیا تھا … کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان کو کہتے سنا خبردار ! خدا کے عمال خدا پر ضامن ہوں گے۔ خبردار ! بنی آدم کے عمال۔ اپنے ضمان کے مالک نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر جب حضرت نعمان اپنے منبر سے اترے تو یہ ان کے پاس آئے اور ان کو استعفیٰ دینا چاہا انہوں نے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے آپ کو یوں یوں کہتے سنا ہے۔

حواشی
(١) في ابن عساكر ٣٨/ ١٦٠: زيادة (عن عبيدة الشرعبي).
(٢) في [جـ]: (ودي).
(٣) في [جـ، ع]: (البنى)، وفي [ط، هـ]: (النبل).
(٤) في [س]: (على).
(٥) مجهول؛ لجهالة حبان.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37452، ترقيم محمد عوامة 35870)