حدیث نمبر: 37442
٣٧٤٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي كثير عن عبد اللَّه بن عمرو قال: تجمعون جميعًا فيقال: أين فقراء هذه الأمة ومساكينها؟ فيبرزون، قال: فيقال: ما عندكم؟ قال: فيقولون: يا ربنا ابتلينا فصبرنا وأنت أعلم، قال: وأراه قال: ووليت الأموال والسلطان غيرنا، قال: ⦗٣٩٦⦘ فيقال: صدقتم، قال: فيدخلون الجنة قبل سائر الناس بزمان، وتبقى شدة الحساب على ذوي الأموال والسلطان، قال: (قلت) (١): فأين المؤمنون يومئذ؟ قال: يوضع لهم كراسي من نور ويظلل عليهم (الغمام) (٢)، ويكون ذلك اليوم أقصر عليهم من ساعة من نهار (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : تم سب لوگوں کو اکٹھا جمع کیا جائے گا پھر کہا جائے گا۔ اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ چناچہ وہ لوگ ظاہر ہوں گے کہا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں آزمائش میں ڈالا گیا لیکن ہم نے صبر کیا اور تو خوب جانتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے مال اور سلطنت ہمارے علاوہ دیگر لوگوں کو دی۔ اس پر کہا جائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ پس وہ لوگ باقی لوگوں سے کافی دیر پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور مال و سلطنت کے مالک حساب کی شدت میں باقی رہیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : اس دن اہل ایمان کہاں ہوں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادل سایہ فگن ہوں گے اور یہ دن ان پر دن کی ایک گھڑی سے بھی چھوٹا ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (فقلت).
(٢) في [س]: (الغمائم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37442
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو كثير هو زهير بن الأقمر وثفه النسائي، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٦٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٩ و ٦/ ٢٠٧، والدينوري في المجالسة (٢٠٣٧)، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن حبان (٧٤١٩)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ١٠/ ٣٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37442، ترقيم محمد عوامة 35860)