٣٧٤٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: أخبرنا (يحيى ابن (سعيد) (١) الكلاعي عن عمرو بن عائذ) (٢) الأزدي عن غطيف بن الحارث الكندي قال: جلست أنا وأصحاب لي إلى عبد اللَّه بن (عمرو) (٣)، قال: فسمعته يقول: إن العبد إذا وضع في القبر كلمه فقال: يا ابن آدم ألم تعلم أني بيت الوحدة وبيت الظلمة وبيت الحق، يا ابن آدم ما غرك بي، قد كنت تمشي حولي (فدادًا) (٤) قال: فقلت لغطيف: يا أبا أسماء ما (فدادًا) (٥) قال: أحيانا (٦)، فقال له صاحبي وكان أسن مني: فإذا كان مؤمنا؟ قال: وسع له وجعل منزله أخضر وعرج بنفسه إلى الجنة (٧).حضرت غطیف بن حارث کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ ساتھی حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سے کلام کرتی ہے۔ اور کہتی ہے : اے آدم کے بیٹے ! کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں اور ظلمت کا گھر ہوں اور حقیقت کا گھر ہوں ؟ اے آدم کے بیٹے ! تجھے کس چیز نے میرے ساتھ دھوکہ میں ڈالا تھا ؟ تم میرے گرد فداداً چلتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت غطیف سے پوچھا : اے ابواسمائ ! فداداً کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یعنی تکبر کے ساتھ۔ حضرت غطیف سے میرے ساتھی نے … جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا … کہا۔ اگر وہ شخص مومن ہو ؟ غطیف نے کہا : اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور اس کی منزل کو سرسبز کردیا جاتا ہے اور اس کے نفس کو جنت کی طرف بلند کردیا جاتا ہے۔