٣٧٤٣٠ - حدثنا (أبو خالد) (١) عن داود (عن علي) (٢) بن زيد عن (٣) (أبي) (٤) عثمان قال: بلغني عن أبي هريرة قال: إن اللَّه يجزي المؤمن (بالحسنة) (٥) ألف ألف حسنة (٦)، فأتيته فقلت: يا أبا هريرة إنه بلغني (أنك) (٧) تقول: إن اللَّه يجزئ المؤمن ⦗٣٩٢⦘ (بالحسنة) (٨) (ألف ألف حسنة) (٩)، قال: (نعم) (١٠)، وألفي ألف حسنة، وفي القرآن من ذلك ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ (فمن يدري تسمية تلك الأضعاف) (١١): ﴿وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: ٤٠]، قال: الجنة (١٢).حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ بات پہنچی کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں کے ساتھ دیتے ہیں چناچہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں میں دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں اور دو لاکھ بھی۔ قرآنِ کریم میں اس کے متعلق ہے {إنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا } پس کون اس دو چند کی مقدار کو جانتا ہے ؟ { وَیُؤْتِ مِنْ لَدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا } فرمایا : جنت۔