٣٧٤٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك الأشجعي عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: لا يقبض المؤمن حتى يرى البشرى، فإذا قبض نادى فليس في الدار دابة (صغيرة ولا كبيرة) (١) إلا هي تسمع صوته إلا الثقلين: الجن والإنس تعجلوا به إلى أرحم الراحمين، فإذا وضع على سريره قال: ما أبطأ ما تمشون، فإذا أدخل في (لحده) (٢) أقعد فأري مقعده من الجنة وما أعد اللَّه له، وملئ قبره من روح وريحان ومسك، قال: فيقول: يا رب قدمني، قال: فيقال: لم يأن لك، (إن لك) (٣) أخوة وأخوات لما (يلحقون) (٤)، (و) (٥) لكن نم قرير العين، قال أبو هريرة: فوالذي نفسي بيده ما نام نائم شاب طاعم ناعم ولا فتاة في الدنيا (نومة) (٦) بأقصر ولا أحلى من نومته حتى يرفع رأسه إلى البشرى يوم القيامة (٧).حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح قبض نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بشارت دیکھ لے۔ پھر جب اس کی روح قبض ہوتی ہے تو آواز دیتا ہے۔ گھر میں کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہیں ہوتا سوائے انس وجان کے مگر یہ کہ وہ اس کی آواز کو سن لیتا ہے۔ اس کو ارحم الراحمین کی طرف جلدی لے کر جاؤ۔ پھر جب اس کو تخت پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے تم لوگ کس قدر آہستہ چلتے ہو ؟ پھر جب اس کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ اور اس کے لیے خدا کی طرف سے تیار سامان دکھایا جائے گا اور اس کی قبر کو رحمت، ریحان اور مشک سے بھر دیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے آگے بھیج دے۔ کہا جائے گا ابھی تیرا وقت نہیں ہے۔ تیرے کچھ بہن بھائی ہیں جو ابھی تک ساتھ نہیں ملے۔ لیکن تو آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے سوجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ کوئی کھاتا پیتا، ناز ونعم والا نوجوان لڑکا یا لڑکی دنیا میں اس قدر میٹھی اور مختصر نیند نہیں سوتی جیسی وہ نیند ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنا سر بشارت کے لیے بلند کرے گا۔