حدیث نمبر: 37422
٣٧٤٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: جاء رجل (١) معه أصحابه يسلمون عليه ويودعونه ويوصونه، فقال له معاذ: إني موصيك بأمرين إن حفظتهما حفظت ما قال لك أصحابك: إنه لا غنى بك عن نصيبك من (الدنيا) (٢) وأنت إلى نصيبك من الآخرة أحوج، فآثر نصيبك من الآخرة على نصيبك من (الدنيا) (٣)، فإنه يأتي بك أو يمر بك على نصيبك من الدنيا (فيتنظمه) (٤) لك انتظاما، فيزول معك أينما زلت (٥).
مولانا محمد اویس سرور

محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے دوستوں کے ہمراہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس آیا۔ انہوں نے حضرت معاذ کو سلام کیا پھر الوداع کہا اور وصیت کی درخواست کی تو حضرت معاذ نے ان کو کہا میں تمہیں دو چیزوں کی وصیت کرتا ہوں۔ اگر تم نے ان کی حفاظت کی تو تمہاری حفاظت ہوگی۔ ایک یہ بات کہ دنیا کے حصہ سے غنی نہیں ہو اور تم اپنے آخرت کے حصہ کے زیادہ محتاج ہو پس تم اپنی آخرت کے حصہ کو اپنے دنیا کے حصہ پر ترجیح دو ۔ کیونکہ تمہاری دنیا کا حصہ تم پر سے گزرے گا یا تمہارے پاس آئے اور وہ تمہیں شامل ہوجائے گا اور جہاں تم اترو گے وہاں وہ تمہارے ساتھ اترے گا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (معاذ بن جبل).
(٢) في [أ]: (الدني).
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [س]: (فينتظم)، وفي [أ، ب]: (فينتضمه).
(٥) منقطع، ابن سيرين لم يدرك معاذًا، أخرجه الطبراني ٢٠/ (٤٩)، وأبو نعيم ١/ ٢٣٤، وابن الجوزي في القصاص (ص ٦٩)، وورد من طرق أخرى، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٣٠٠)، وإسحاق كما في المطالب (٣٢٧٥)، وابن عساكر ٥٨/ ٤٣٧، والبيهقي في الشعب (١٠٦٣١)، وهناد (٥٢٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37422
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37422، ترقيم محمد عوامة 35840)