حدیث نمبر: 37418
٣٧٤١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد اللَّه بن الأقنع الباهلي عن الأحنف بن قيس قال: كنت جالسا في مسجد المدينة، فأقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه، حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، فثبتُ، وفروا، فقلت: من أنت؟ فقال: أبو ذر صاحب رسول اللَّه، (فقلت) (١): ما يفر الناس منك؟ فقال: إني أنهاهم عن الكنوز، فقلت: إن أعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها؟ قال: أما اليوم فلا، ولكنها يوشك أن تكون أثمان دينكم فدعوهم وإياها (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی سامنے سے آیا جو حلقہ بھی اس کو دیکھتا تو وہ حلقہ بھاگ جاتا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی اس حلقہ کے پاس آیا جس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باقی لوگ فرار ہوگئے اور میں بیٹھا رہا۔ میں نے کہا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے کہا : لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ان کو خزانے جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا : (کیا) ہماری جاگیریں بہت زیادہ بلند ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہم پر خوف ہے ؟ انہوں نے کہا : آج تو یہ حالت نہیں ہے لیکن عنقریب ایسا ہوگا کہ تمہارے دین کی قیمت ہوگی پس تم ان کو چھوڑ دو اور ان سے بچو۔

حواشی
(١) في [ع]: (فقال).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن الأقنع، أخرجه أحمد ٥/ ١٦٤ (١١٤٥١)، وابن عساكر ٦٦/ ٢١٢، والدينوري (٢٨٥٩)، والحاكم ٤/ ٥٢٢، وأصله عند البخاري (١٤٠٧)، ومسلم (٩٩٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37418
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37418، ترقيم محمد عوامة 35836)