حدیث نمبر: 37416
٣٧٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي بكر بن المنكدر قال: أرسل حبيب بن مسلمة وهو على الشام إلى أبي ذر بثلاثمائة دينار، فقال: استعن بها على حاجتك، فقال أبو ذر: ارجع بها، فما وجد أحدا (أغر) (١) باللَّه منا، ما لنا (إلا) (٢) ظل نتوارى به، وثلة من غنم تروح علينا، ومولاة لنا ⦗٣٨٦⦘ تصدقت علينا بخدمتها، ثم إني لأتخوف الفضل (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن منذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حبیب بن مسلمہ نے … یہ شام پر حکمران تھے … حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف تین سو دینار بھیجے اور فرمایا : ان سے اپنی ضرورت میں مدد کرلینا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو واپس لے جاؤ۔ ہم سے بڑھ کر کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ ہمیں تو صرف ایک سایہ چاہیے جس میں ہم سایہ حاصل کریں اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ہمیں راحت دیتا ہے اور ایک آزاد لونڈی ہے جو اپنی خدمات کا ہم پر صدقہ کرتی ہے پھر میں اس سے زیادہ چیز کا خوف کھاتا ہوں۔
حواشی
(١) أي: أكثر غرورًا، وفي [أ، ب، س]: (أغنى).
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) منقطع؛ أبو بكر بن المنكدر لم يدرك أبا ذر، أخرجه أبو نعيم ١/ ١٦١، وأحمد في الزهد (ص ١٤٧).