حدیث نمبر: 37415
٣٧٤١٥ - حدثنا أبو معاوية عن الحسن (بن) (١) سالم بن أبي الجعد عن أبيه قال: بعث أبو الدرداء إلى أبي ذر رسولا، قال: فجاء الرسول فقال لأبي ذر: إن أخاك أبا الدرداء يقرئك السلام، يقول لك: اتق اللَّه و (خف) (٢) الناس، قال: فقال أبو ذر: مالي وللناس، وقد تركت لهم بيضاءهم وصفراءهم، ثم قال للرسول: انطلق إلى المنزل، قال: فانطلق معه، قال: فلما دخل بيته إذا (طعيم) (٣) في عباءة ليس بالكثير، وقد انتشر بعضه، (قال) (٤): فجعل أبو ذر يكنسه ويعيده في العباءة، قال: ثم قال: إن من فقه المرء رفقه في معيشته، قال: ثم جيء بُطعيم فوضع بين يديه، قال: فقال لي: كُلْ، قال: فجعل الرجل يكره أن يضع يده في الطعام لما يرى من قلته، قال: فقال له أبو ذر: ضع يدك، فواللَّه لأنا بكثرته أخوف مني بقلته، قال: فطعم الرجل، ثم رجع إلى أبي الدرداء فأخبره بما رد عليه، فقال أبو الدرداء: ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء على ذي لهجة أصدق منك يا أبا ذر (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوالجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ قاصد آیا اور اس نے حضرت ابوذر کو کہا آپ کے بھائی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے کہتے ہیں اللہ سے ڈرو اور لوگوں سے مخفی رہو۔ اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے لوگوں سے کیا لینا ہے۔ میں نے ان کے لیے ان کی چاندی سونے کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے قاصد سے فرمایا۔ گھر کی طرف چلو۔ وہ آپ کے ہمراہ چل پڑا۔ پس جب وہ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو ایک چوغہ میں تھوڑی سی کھانے کی چیز تھی جو بکھری ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور اس کو چوغہ میں جمع کیا۔ پھر آپ نے فرمایا : بیشک آدمی کی فقاہت میں سے اس کا اپنی معیشت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا ہے۔ پھر کچھ تھوڑا سا کھانا لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے مجھے کہا کھاؤ۔ وہ آدمی اس کھانے میں ہاتھ ڈالنے کو ناپسند کرتا تھا۔ کیونکہ وہ تھوڑا دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا ہاتھ ڈالو خدا کی قسم ! ہم کھانے کی قلت سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتے جتنا اس کی کثرت سے ہوتے ہیں۔ اس پر آدمی نے کھانا کھالیا پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس واپس چلا گیا اور ان کو ساری حالت بیان کی۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوذر رضی اللہ عنہ تجھ سے زیادہ سچے کسی آدمی پر کسی درخت نے سایہ نہیں کیا اور کسی زمین نے پناہ نہیں دی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ط، هـ]: (حق).
(٣) في [س]: (طعيمة).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) منقطع؛ سالم بن أبي الجعد لم يدرك أبا الدرداء وأبا ذر، وأخرجه ابن أبي عاصم في الزهد (٦٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37415
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37415، ترقيم محمد عوامة 35833)